17 اکتوبر، 2026، 5:23 PM

امریکہ کو 2030ء تک اسٹریٹجک ہتھیاروں کے بحران کا سامنا رہے گا، سی بی ایس نیوز

امریکہ کو 2030ء تک اسٹریٹجک ہتھیاروں کے بحران کا سامنا رہے گا، سی بی ایس نیوز

امریکی اور بین الاقوامی ذرائع نے 2030ء تک اسٹریٹجک ہتھیاروں، بالخصوص امریکی فضائی دفاعی گولہ بارود کی قلت کے بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سی بی ایس نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کو گولہ بارود کے بڑھتے ہوئے استعمال اور پیداواری صلاحیت میں کمی کے باعث اپنے فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے میں ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب خبردار کیا جا رہا ہے کہ اسٹریٹجک گولہ بارود کی قلت 2030ء تک برقرار رہ سکتی ہے۔

امریکی فوج کے سابق جنرل اسٹاف رینڈی جارج نے دسمبر کے اواخر میں میزائل دفاعی گولہ بارود کی شدید قلت کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کمی کو پورا کرنے میں پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرنے والے امریکی حکام کے مطابق، یہ جائزہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پینٹاگون کے عالمی افواج کے انتظام اور تقسیم کے منصوبے میں شامل تھا۔

اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ تھاڈ (THAAD) اور پیٹریاٹ (Patriot) میزائل نظاموں کے ذخائر 2030ء تک اسٹریٹجک سطح پر کم رہیں گے۔ اس انتباہ کی بنیاد 2022ء میں روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی منتقلی، اسرائیل کے دفاع کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی اور پیداوار بڑھانے کے لیے دفاعی صنعت کی محدود صلاحیت پر تھی۔

اگرچہ امریکہ کے پاس بعض حملہ آور ہتھیاروں، مثلاً گائیڈڈ بموں اور مشترکہ براہِ راست حملے کے گولہ بارود (JDAM) کے وسیع ذخائر موجود ہیں، تاہم امریکی حکام کے مطابق ان کی اصل تشویش میزائل دفاعی گولہ بارود سے متعلق ہے۔ سی بی ایس نیوز نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ذخائر کی درست شرح فیصد ظاہر کرنے سے گریز کیا۔

تھاڈ امریکہ کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے، جسے بیلسٹک میزائلوں کی پرواز کے آخری مرحلے میں، فضا کے اندر اور باہر، انہیں روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 2025ء میں کانگریس کی تحقیقی سروس کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج کے پاس اس نوعیت کے آٹھ نظام موجود ہیں اور ہر نظام میں چھ میزائل لانچر شامل ہیں۔

دوسری جانب، پیٹریاٹ نظام فوجیوں، فوجی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور دشمن کے طیاروں سے محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ تھاڈ نظام کی حفاظتی حدود سے کم بلندی پر کام کرتا ہے۔ اس نظام کا PAC-3 نامی انٹرسیپٹر میزائل مختصر مدت میں ختم ہونے والے اہم ترین گولہ بارود میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہ آنے والے میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے براہِ راست تصادم پر انحصار کرتا ہے۔

امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ کرنل اور مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات (CSIS) کے سینئر دفاعی و سلامتی مشیر مارک کانسیان نے کہا کہ تھاڈ اور پیٹریاٹ ایسے ہتھیار ہیں جنہیں امریکی فوج چین کے ساتھ کسی بھی تصادم میں بڑے پیمانے پر استعمال کرے گی۔

سی ایس آئی ایس کی جانب سے اپریل میں جاری کردہ تخمینے کے مطابق، کمپنیوں کو تھاڈ انٹرسیپٹر میزائلوں کے نئے آرڈرز فراہم کرنے میں اس وقت چار سال اور پانچ ماہ درکار ہیں، جبکہ پیٹریاٹ نظام کے PAC-3 میزائلوں کی فراہمی میں اوسطاً ساڑھے تین سال لگتے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ میں پیٹریاٹ کے 61 فیصد انٹرسیپٹر میزائل استعمال ہوگئے

اس مرکز کے تخمینے کے مطابق، امریکہ 2026ء میں ایران کے خلاف جنگ سے پہلے اپنے اسلحہ خانے میں تقریباً 2,300 پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل رکھتا تھا۔ جنگ کے دوران ان میں سے 1,050 سے 1,430 میزائل استعمال کیے گئے، جو جنگ سے پہلے کے مجموعی ذخائر کا تقریباً 61 فیصد بنتے ہیں۔

اس مرکز کے اندازوں کے مطابق، جنگ سے پہلے تھاڈ نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر تقریباً 355 تھے، جن میں سے 190 سے 290 میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔ امریکہ نے مالی سال 2027ء کے لیے 800 سے زیادہ تھاڈ میزائلوں کا آرڈر دیا ہے، تاہم پیداوار میں اضافہ قلت کو فوری طور پر دور نہیں کرسکے گا۔

لاک ہیڈ مارٹن اور آر ٹی ایکس (RTX) اپنی ذیلی کمپنی ریتھیون (Raytheon) کے ذریعے یہ نظام اور ان کے ضروری اجزا تیار کرتی ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں نے پیداوار تیز کرنے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن نے جنوری میں تھاڈ میزائلوں کی پیداواری صلاحیت کو سالانہ 96 سے بڑھا کر 400 میزائل کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا تھا۔

تاہم، ایران کے خلاف جنگ کے دوران گولہ بارود کے ذخائر میں کمی ہی قلت کی واحد وجہ نہیں ہے، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط اخراجات سے متعلق فیصلوں، دفاعی صنعتی بنیاد کے سکڑنے اور ایسی فوجی کارروائیوں نے بھی اس مسئلے کو سنگین بنایا ہے جن میں گولہ بارود کا استعمال، اسے دوبارہ تیار کرنے کی صنعت کی صلاحیت سے بڑھ گیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ امریکہ کو اپنے ذخائر دسمبر 2025ء کی سطح پر واپس لانے کے لیے 2030ء تک انتظار کرنا پڑے گا، چاہے وہ ایران یا دیگر تنازعات میں تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کے مزید استعمال سے گریز ہی کیوں نہ کرے۔

News ID 1942178

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha